
” گلاب لانا “
کبھی جو روٹھوں تو تم منانے کو
ایسا کرنا , گلاب لانا
حسین رُت میں پکڑ کے ہاتھوں کو
پاس آ کر وصل کی راتوں کو
ساتھ رہنے کے پھر دوبارہ سے
خواب لانا , گلاب لانا
کبھی پکاروں جو نام لے کر
تمہارے خستہ پیام لے کر
تم اپنے لفظوں میں لے کے خوشبو
جواب لانا , گلاب لانا !
تمہیں بھی میری جو یاد آئے
جو سب تھے میں نے تم پر لٹائے
اُنھی سارے جذبوں کا تم مری جاں
حساب لانا , گلاب لانا !
💕💞💕
Leave a comment